بابر اعظم اور محمد رضوان کی واپسی کا امکان ختم، سلمان علی آغا پر مکمل اعتماد

پاکستانی کرکٹ کے مداحوں کے لیے یہ ایک غیر متوقع خبر ہے کہ قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی، بابر اعظم اور محمد رضوان، کی آئندہ سیریز میں واپسی کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ نے حالیہ میٹنگ میں واضح کیا ہے کہ مستقبل قریب میں نئے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، اور اس نئے پلان میں آل راؤنڈر سلمان علی آغا پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔

Advertisement

ذرائع کے مطابق ٹیم سلیکشن کمیٹی اور کپتان نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نئے ٹیلنٹ کو بھی موقع دیا جائے تاکہ ٹیم کا بیلنس بہتر ہو اور فٹنس کے مسائل سے دوچار کھلاڑیوں کو آرام مل سکے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان دونوں کی فٹنس اور فارم پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، مگر کوچنگ اسٹاف کا خیال ہے کہ انہیں فوری واپسی کے بجائے ری ہیب اور نیٹ پریکٹس پر توجہ دینی چاہیے۔

دوسری جانب، سلمان علی آغا کی پرفارمنس نے ٹیم مینجمنٹ کو خاصا متاثر کیا ہے۔ ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے نہ صرف مڈل آرڈر کو استحکام دیا ہے بلکہ بالنگ کے شعبے میں بھی تسلسل دکھایا ہے۔ ٹیم کے قریبی ذرائع کے مطابق، کوچ اور سلیکٹرز سلمان پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور انہیں آئندہ سیریز میں مرکزی کردار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Advertisement

Also read :پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’’پی سی بی لائیو‘‘ لانچ کر دیا

رپورٹس کے مطابق، آئندہ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں چند نئے کھلاڑیوں کی شمولیت متوقع ہے تاکہ اگلے سال کے بڑے ایونٹس کے لیے ایک مضبوط اسکواڈ تیار کیا جا سکے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان کی غیر موجودگی میں ٹیم کی قیادت اور بیٹنگ آرڈر میں تبدیلیاں متوقع ہیں، جن پر آئندہ دنوں میں حتمی اعلان کیا جائے گا۔

شائقین کرکٹ اس فیصلے پر ملی جلی رائے رکھتے ہیں — کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سینئر کھلاڑیوں کو آرام دینا درست فیصلہ ہے، جبکہ دیگر کے نزدیک بابر اور رضوان جیسے میچ ونر کھلاڑیوں کو ٹیم سے دور رکھنا ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بہرحال، ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر ٹیم کے مفاد میں کیا گیا ہے۔


Disclaimer: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور قابلِ اعتماد ذرائع پر مبنی ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے مستند اور سرکاری نیوز آؤٹ لیٹس سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment