تعارفی خاکہ
اس باور سے کہ موت لافانی حقیقت ہے، ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا جہاں ایک خاتون ۱۷ منٹ تک کلینیکی طور پر مردہ قرار پائی، مگر گھڑی پھر چکی اور وہ دوبارہ زندہ ہو گئی۔ اس تجربے نے نہ صرف مریضہ کی زندگی بدل دی، بلکہ ایک چھپی ہوئی بیماری کے پردے بھی کھول دیے۔ آئیں اس دل دہلا دینے والی داستان کو تفصیل سے جانیں۔
واقعہ کا پس منظر
وِکٹوریہ تھامس، عمر ٣٥، مقررہ ورزش سیشن کے دوران اچانک گر کر بے ہوش ہو گئیں۔ سیٹی گیم کی شدت اور دل کی بے یقینی کی وجہ سے ان کا دل رک گیا اور وہ تقریباً ۱۷ منٹ تک کلینیکی طور پر مردہ رہیں۔ دورانِ کار امدادی ٹیم نے الیکٹریکی شاکز دیے، ایڈوانس ایئر وے سپورٹ استعمال کی، اور تیز ترین ہسپتال منتقلی کی کوشش کی—لیکن سب ناکام رہا۔ پھر کچھ ایسا ہوا جو سب کے لیے حیران کن تھا: دل خود بخود دھڑکنا شروع ہوا یعنی Lazarus Syndrome کا شائب۔
Also read :ماں، بیٹا اور وہ راز: جب پردہ چاک ہوا
Lazarus Syndrome کیا ہے؟
میڈیکل میں اسے Lazarus phenomenon یا autoresuscitation after failed CPR بھی کہتے ہیں۔ اس حد تک نایاب واقعہ پہلی بار ۱۹۸۲ میں رپورٹ ہوا، اور اب تک صرف چند دستاویزی رپورٹس میں موجود ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سی پی آر کے دوران سینے میں دباؤ جمع ہو جاتا ہے—جب دباؤ ہٹا دیا جاتا ہے تو دل خود بخود حرکت شروع کر دیتا ہے۔ دیگر ممکنہ عوامل میں ہائی یا لو ٹیونسی الیکٹرولائٹس یا ایڈرینالین کے اثرات شامل ہیں۔
موت کے بعد کیا دیکھا؟
اگرچہ وِکٹوریہ نے اپنی موت کے دوران جو تجربہ کیا اسے خود بیان نہیں کیا، دیگر ملتے جلتے کیسز (مثلاً ۸، ۱۱، یا ۲۴ منٹ کلینیکی موت) سے معلوم ہوتا ہے کہ مریض ناپید “عبور” جیسا منظر دیکھتے ہیں:
- بریانّا لافرٹی (امریکی خاتون): تقریباً ۸ منٹ کے لیے مردہ رہیں، اور بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنی لاش کے اوپر ٹھہرنے اور ایک بے وقت کی دنیا میں داخِل ہونے کا تجربہ کیا جہاں وقت نامعلوم تھا۔
- چارلٹ ہومز (امریکہ): ۱۱ منٹ کے بعد واپس آ کر اعلان کیا کہ انہوں نے جنت دیکھی—خوشی، روشنی، مرحومین کے صحت مند جوان مجسمے، اور فرشتوں کی رہنمائی کا احساس۔
اسی طرح، ہو سکتا ہے وکٹوریہ نے بھی اس عجیب خاموش دنیا کا سامنا کیا؛ جہاں درد، خوف، یا انسانیت کے معمولی تجربے بیگانہ محسوس ہوئے۔
چٹان کی طرح بیماری کا انکشاف
اس واقعے نے ایک طبی معمہ کو بے نقاب کیا: وکٹوریہ کو Danon disease نامی ایک نایاب جینیاتی دل کی خرابی لاحق تھی، جو اس کی دل کی بار بار ناکامیوں کی بنیادی وجہ بنی۔ ورزش کے دوران کارڈیک اریسٹ کا یہ واقعہ اس بیماری کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ آخر کار، وکٹوریہ کو دل کی پیوند کاری کی ضرورت پڑی، اور اس نے اسے پایا۔ زندگی کے اس موڑ نے ظاہر کیا کہ جسمانی فٹنس کبھی بھی خطرہ یا اندرونی خرابی کی ضمانت نہیں ہوتی ۔
روحانی اور نفسیاتی منظر
مرنے کے بعد کسی روح یا شعور کے اپنے تجربات سے متعلق معروضی شواہد تو کم ہیں، لیکن یہ کیسز انسانی شعور کی حدود سے باہر کے مناظرات پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مریض اکثر یہ کہتے ہیں:
- جسم سے اوپر کی جانب دیکھنا (out-of-body experience)
- درد کی عدم موجودگی اور لافانی سکون
- دماغی کیفیت یا وقت کا رک جانا
- روشنی یا آسمانی منازلِ صفا کا احساس
یہ تجربات اکثر ایک روحانی تغیر یا زندگی کی قدر کا شعور دلاتے ہیں، جس سے متاثرہ شخص دوبارہ زندگی کو نئے زاویے سے دیکھتا ہے۔
طبی اور اخلاقی پہلو
- تشخیصی احتیاط: Lazarus syndrome کے واقعات بتاتے ہیں کہ موت کا اعلان کرنے سے پہلے کم از کم ۵-۱۰ منٹ تک حیاتیاتی علامات کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
- ریسوسسٹیٹیشن کے بعد کی نگہداشت: مریض جب واپس لوٹتا ہے، تو نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور روحانی صحت کی بھی مکمل رہنمائی درکار ہوتی ہے—خصوصاً اگر کوئی بیمار جینیاتی بیماری سامنے آ جائے۔
نتیجہ: زندگی کا دوسرا چانس
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ موت بھی زندگی کو مکمل کر سکتی ہے—لیکن بعض اوقات وہ زندگی کو نئے سرے سے ترتیب بھی دیتی ہے۔
وِکٹوریہ تھامس کی کہانی ایک تعجب انگیز طبی معجزہ ہے، اور ایک نیو کھیلے شعور کی نمائندہ۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:
- اندرونی بیماریوں کی پیشگی تشخیص کتنا اہم ہے؛
- نزدیک موت کے تجربات زندگی کے معنی بدل سکتے ہیں؛
- طبی ٹیموں کو جدید ترین پروٹوکولز پر عمل کرنا چاہئے تاکہ ایسے نایاب واقعات میں مریض محفوظ رہے۔
اخیر میں، اگرچہ ہم وضاحت کے ساتھ نہیں جانتے کہ حقیقتاً موت کے عکس میں مریض نے کیا دیکھا، لیکن یہی انکشافات انسانی شعور، طبی سائنس، اور زندگی کی معنویت کے درمیان ایک پل بناتے ہیں۔ اس داستان سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے، اور سائنس ہمیں صرف فنا کی سمت نہیں بلکہ علماء کی روشنی میں زندگی کی قدر کو بھی واضح کرتی ہے۔
کلماتِ اختتام:
یہ یاد رہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا آغاز ایک شفا بخش نور کی مانند ہوتا ہے—چاہے وہ دل کی پھیپڑوں کی دھڑکن ہو، دل کی پیوند کاری، یا روحانی خود شناسی۔ وکٹوریہ کی داستان ہمیں سکھاتی ہے کہ حتیٰ پوشیدہ بیماریوں کو سامنے لایا جا سکتا ہے، اور موت بھی زندگی کا نیا آغاز بن سکتی ہے۔