پاکستان کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں کرکٹ کی تاریخ کا 253 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا

لاہور: پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ میں ایک ایسا تاریخی لمحہ دیکھنے میں آیا جس نے کرکٹ کی دنیا کو حیران کر دیا۔ پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس مقابلے میں کرکٹ کی 253 سالہ تاریخ کا ایک انتہائی منفرد اور حیران کن ریکارڈ ٹوٹ گیا، جب ایس این جی پی ایل کی ٹیم پی ٹی وی کے خلاف نہایت کم ہدف کے تعاقب میں بھی کامیاب نہ ہو سکی۔

Advertisement

یہ میچ اس وقت عالمی کرکٹ حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا جب پی ٹی وی کی ٹیم نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کا سب سے کم اسکور بنایا، مگر اس کے باوجود مخالف ٹیم ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ لمحہ ناقابلِ یقین تھا، کیونکہ عموماً اتنے کم ہدف کو باآسانی حاصل کر لیا جاتا ہے۔

میچ کی تفصیلات کے مطابق پی ٹی وی کی ٹیم اپنی بیٹنگ کے دوران مکمل طور پر مشکلات کا شکار نظر آئی۔ بیٹنگ لائن ایک کے بعد ایک ڈھیر ہوتی چلی گئی اور پوری ٹیم انتہائی کم اسکور پر آؤٹ ہو گئی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ایس این جی پی ایل کے لیے یہ مقابلہ محض رسمی کارروائی ثابت ہوگا، مگر کھیل نے بالکل مختلف رخ اختیار کر لیا۔

Advertisement

ایس این جی پی ایل کی اننگز کا آغاز اگرچہ پُراعتماد انداز میں ہوا، لیکن جلد ہی پی ٹی وی کے باؤلرز نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔ ابتدائی وکٹیں گرنے کے بعد دباؤ بڑھتا چلا گیا اور بیٹنگ لائن سنبھل نہ سکی۔ ایک کے بعد ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتا گیا اور ٹیم غیر متوقع طور پر شکست کے قریب پہنچ گئی۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ میچ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کے ان نادر مقابلوں میں شمار ہوگا جہاں کم ترین اسکور کا دفاع کامیابی سے کیا گیا۔ اس سے قبل ایسا ریکارڈ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ اتنے کم ہدف کے باوجود تعاقب کرنے والی ٹیم مکمل طور پر ناکام ہو جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میچ نے یہ ثابت کر دیا کہ کرکٹ غیر یقینی صورتحال کا کھیل ہے، جہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ ایک طرف پی ٹی وی کی ٹیم کا کم ترین اسکور اور دوسری جانب ایس این جی پی ایل کی بیٹنگ کی مکمل ناکامی، دونوں ہی اس کھیل کے حیران کن پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔

Also read:مرغیاں پالیں اور لاکھوں کمائیں: سال بھر انڈے دینے والی 5 بہترین نسلیں

اس مقابلے میں پی ٹی وی کے باؤلرز نے غیر معمولی نظم و ضبط، درست لائن و لینتھ اور بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ کم ہدف کے باوجود انہوں نے دباؤ برقرار رکھا اور مخالف بیٹسمینوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ دوسری جانب ایس این جی پی ایل کے بیٹسمین غیر ضروری شاٹس کھیلتے رہے اور قیمتی وکٹیں گنواتے چلے گئے۔

شائقینِ کرکٹ کے لیے یہ میچ ایک تاریخی یادگار بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مقابلے پر بھرپور بحث دیکھنے میں آئی، جہاں صارفین نے اسے کرکٹ کی تاریخ کے عجیب ترین میچوں میں سے ایک قرار دیا۔ کئی سابق کرکٹرز نے بھی اس ریکارڈ کو حیران کن اور ناقابلِ یقین قرار دیا۔

پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون جیسے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین پلیٹ فارم سمجھے جاتے ہیں۔ اس میچ نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مقابلے کا معیار مسلسل بہتر ہو رہا ہے اور کسی بھی ٹیم کو کمزور سمجھنا بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تاریخی مقابلہ آنے والے وقتوں میں بطور مثال یاد رکھا جائے گا، جہاں ایک کم ترین اسکور نے نہ صرف دفاع حاصل کیا بلکہ صدیوں پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ کرکٹ کی کتابوں میں اس میچ کا ذکر سنہری حروف میں کیا جائے گا، کیونکہ ایسے لمحات شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔


ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معلومات پر مبنی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس اور تفصیلات کے لیے مستند اور سرکاری نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top