مرغیاں پالیں اور لاکھوں کمائیں: سال بھر انڈے دینے والی 5 بہترین نسلیں

پاکستان میں پولٹری فارمنگ تیزی سے مقبول ہوتا ہوا کاروبار بن چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، پروٹین کی زیادہ مانگ اور انڈوں کی مسلسل کھپت نے اس شعبے کو ایک منافع بخش موقع میں تبدیل کر دیا ہے۔ خاص طور پر وہ کسان اور کاروباری افراد جو کم سرمائے سے مستقل آمدنی چاہتے ہیں، ان کے لیے انڈے دینے والی مرغیوں کی فارمنگ ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔ کامیاب پولٹری فارمنگ کا انحصار صرف محنت پر نہیں بلکہ درست نسل کے انتخاب پر بھی ہوتا ہے۔

Advertisement

مرغیوں کی نسل منتخب کرتے وقت آب و ہوا، چارے کی دستیابی، بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور مقامی مارکیٹ کی طلب کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایسی نسلیں جو سال بھر مسلسل انڈے دیتی ہیں، کسان کو نہ صرف باقاعدہ آمدنی فراہم کرتی ہیں بلکہ کاروبار کو استحکام بھی دیتی ہیں۔ ذیل میں ہم پانچ ایسی مشہور اور منافع بخش نسلوں کا ذکر کر رہے ہیں جو سال بھر انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

1۔ رہوڈ آئی لینڈ ریڈ (Rhode Island Red)
یہ نسل دنیا بھر میں انڈے اور گوشت دونوں کے لیے مشہور ہے۔ رہوڈ آئی لینڈ ریڈ سخت جان ہوتی ہے اور مختلف موسمی حالات میں خود کو آسانی سے ڈھال لیتی ہے۔ ایک مرغی سالانہ اوسطاً 250 سے 300 بھورے رنگ کے انڈے دیتی ہے۔ اس نسل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کم خرچ میں زیادہ پیداوار دیتی ہے، اسی لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں میں بہت مقبول ہے۔

Advertisement

2۔ لیگ ہارن (Leghorn)
لیگ ہارن سفید انڈے دینے والی سب سے مشہور نسلوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ نسل کم خوراک میں زیادہ انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک لیگ ہارن مرغی سالانہ 280 سے 320 انڈے دے سکتی ہے۔ گرم علاقوں میں اس کی کارکردگی خاص طور پر بہتر ہوتی ہے، اسی لیے پاکستان کے بیشتر علاقوں میں یہ نسل کامیابی سے پالی جا سکتی ہے۔

3۔ آئسابراؤن (Isa Brown)
آئسابراؤن تجارتی پولٹری فارمنگ میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ یہ نسل پرسکون مزاج کی حامل ہوتی ہے اور کم وقت میں انڈے دینا شروع کر دیتی ہے۔ ایک آئسابراؤن مرغی سالانہ 300 کے قریب انڈے دیتی ہے۔ اس نسل کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بیماریوں کے خلاف بہتر مزاحمت رکھتی ہے اور نئے فارمرز کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔

Also read:شاہین آفریدی کا آئندہ ہفتے سے بولنگ شروع کرنے کا اعلان، شائقین کے لیے خوشخبری

4۔ پلیماؤتھ راک (Plymouth Rock)
پلیماؤتھ راک بھی دوہری مقصد کی نسل ہے، یعنی انڈے اور گوشت دونوں کے لیے مفید ہے۔ یہ نسل سرد اور معتدل دونوں قسم کے موسم میں اچھی کارکردگی دکھاتی ہے۔ ایک مرغی سالانہ تقریباً 200 سے 250 انڈے دیتی ہے۔ اس کی مضبوط جسامت اور آسان دیکھ بھال اسے دیہی علاقوں کے لیے بہترین انتخاب بناتی ہے۔

5۔ فایومی (Fayoumi)
فایومی نسل خاص طور پر گرم اور خشک علاقوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ یہ نسل بیماریوں کے خلاف غیرمعمولی قوتِ مدافعت رکھتی ہے اور کم سہولیات میں بھی زندہ رہ سکتی ہے۔ اگرچہ اس کے انڈوں کا سائز نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے، لیکن ایک مرغی سالانہ 200 سے 220 انڈے دے سکتی ہے۔ کم خرچ اور زیادہ برداشت کی وجہ سے یہ نسل چھوٹے کسانوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

کامیاب پولٹری فارمنگ کے لیے اہم نکات
صرف اچھی نسل کا انتخاب ہی کافی نہیں، بلکہ مناسب خوراک، صاف پانی، ویکسینیشن اور صاف ستھرا ماحول بھی انتہائی ضروری ہے۔ متوازن خوراک مرغیوں کی صحت اور انڈوں کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح، وقت پر بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات کرنے سے نقصان کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ مارکیٹ کی طلب کو سمجھ کر پیداوار کی منصوبہ بندی کرنا بھی منافع میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

پولٹری فارمنگ ایک ایسا کاروبار ہے جس میں محنت اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ لاکھوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔ سال بھر انڈے دینے والی نسلیں کسان کو مستقل آمدنی فراہم کرتی ہیں اور معاشی خودمختاری کی جانب ایک مضبوط قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔


ڈسکلیمر:
یہ مضمون معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ پولٹری فارمنگ شروع کرنے یا سرمایہ کاری کرنے سے قبل مقامی ماہرین، ویٹرنری ڈاکٹرز اور مستند زرعی ذرائع سے معلومات کی تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top