جرمنی میں افغان پناہ کے متلاشی افراد کی بڑی تعداد اب اپنی پناہ کی درخواستوں میں خود کو ہم جنس پرست (Gay) یا LGBTQ حقوق کا کھل کر حامی قرار دے رہی ہے۔ یہ رجحان صرف اتفاق نہیں بلکہ ایک تیزی سے بڑھتا ہوا سلسلہ ہے، جس کی بنیاد افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔ 2021 کے بعد جب طالبان نے ملک کا نظم و نسق سنبھالا تو لاکھوں شہری خوف، جبر، اور عدم برداشت کے ماحول کے باعث یورپ خصوصاً جرمنی کا رخ کرنے لگے۔
افغان درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت میں ان کی جنسی رجحانات، آزادیِ اظہار یا لبرل خیالات کی وجہ سے ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ لہٰذا وہ جرمنی میں پناہ کے مستحق ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں ہم جنس پرستی کو سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، اور اس پر سنگسار تک کی سزا نافذ کی جا سکتی ہے۔
اعداد و شمار: چار سال میں چودہ گنا اضافہ
جرمن وفاقی دفتر برائے مہاجرین و پناہ گزینوں (BAMF) کے اندرونی ریکارڈ کے مطابق:
- 2022 سے 2025 کے درمیان
افغان مردوں کی جانب سے جنسی رجحان کی بنیاد پر پناہ کی درخواستوں میں تقریباً 14 گنا اضافہ دیکھا گیا۔
یہ وہ افراد ہیں جو زیادہ تر:
- نوجوان
- شہری پس منظر رکھنے والے
- سوشل میڈیا سے گہرا تعلق رکھنے والے
افراد پر مشتمل ہیں۔ اس گروہ میں کچھ واقعی ایسے ہیں جو طالبان کے دور میں اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے، جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو اپنے کیس کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی شناخت کا مختلف انداز میں اظہار کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے کئی دعوے بے نقاب کر دیے
جرمن عدالتوں اور انٹیلی جنس اداروں نے متعدد پناہ گزینوں کی درخواستوں کی جانچ پڑتال میں حیران کن حقائق سامنے لائے۔
کئی کیسز میں سوشل میڈیا تاریخ سے معلوم ہوا کہ:
- کچھ درخواست گزار ماضی میں طالبان کے کھلے حامی رہے تھے
- ان کے پوسٹس میں ہم جنس پرستی کے خلاف شدید موقف پایا گیا
- بعض افراد نے لبرل خیالات کو کفر قرار دیا
- پچھلے رویے کے برعکس اب وہ خود کو LGBTQ حامی ظاہر کر رہے ہیں
ایسے تمام کیسز میں پناہ کی درخواستوں کی منظوری کی شرح بہت کم رہی اور بہت سے افراد کو مسترد کر دیا گیا۔
Also read:کراچی میں ایک اور معصوم بچی کھلے مین ہول میں گر گئی — لاپرواہی کا ایک اور تکلیف دہ واقعہ
نئی حکمتِ عملی: ظاہری تبدیلی سے بیانیے کی تبدیلی تک
اس نئی صورتحال نے ایک دلچسپ مگر تشویشناک رجحان کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب:
- بہت سے افغان درخواست گزار داڑھیاں منڈوا کر مغربی لباس اپنانے لگے ہیں
- درخواست جمع کروانے سے قبل پیشہ ور وکلاء سے مشاورت کرتے ہیں
- اور اپنی جنسی شناخت یا LGBTQ حمایتی موقف کو درخواست کا مرکزی نکتہ بنا رہے ہیں
یہ عمل نہ صرف جرمن حکام کے لیے ایک چیلنج بن رہا ہے بلکہ حقیقی خطرے سے دوچار افراد کے لیے بھی مشکلات بڑھا رہا ہے۔
جرمن حکام کی تشویش اور نئی جانچ ٹیمیں
پناہ کے نظام کے ممکنہ غلط استعمال نے جرمن حکام کو سخت اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
حکام نے:
- خصوصی یونٹس تشکیل دی ہیں
- جو درخواست گزاروں کے ماضی کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی گہرائی سے جانچ پڑتال کرتی ہیں
- اور ان کے بیانات کو آن لائن ریکارڈ سے تقابل کرتی ہیں
اس سخت اسکرونٹی کا مقصد جعلی بیانیوں کو روکنا اور حقیقی خطرات کے شکار افراد کو ترجیح دینا ہے۔
افغانستان اور جرمنی کے بیانیوں میں تضاد — بڑے سوالات جنم لے رہے ہیں
ایک طرف افغانستان میں آج بھی:
- ہم جنس پرستی پر سخت سزائیں
- سماجی عدم برداشت
- لبرل خیالات پر قتل تک کے خطرات موجود ہیں
جبکہ دوسری طرف:
- جرمنی میں یہی دعویٰ پناہ ملنے کا سب سے طاقتور قانونی جواز بن چکا ہے۔
یہ تضاد نہ صرف افغان تارکین وطن کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہا ہے بلکہ یورپی پناہ کے نظام کی شفافیت اور ساکھ پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
کیا پناہ کا نظام واقعی دباؤ میں ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق:
- پناہ کے نظام میں غلط بیانی اور جعلی کیسز کی بڑھتی تعداد
- حقیقی خطرے سے دوچار افراد کے حقوق کو نقصان پہنچا سکتی ہے
- جبکہ عوامی سطح پر پناہ گزین مخالف جذبات بھی بڑھ سکتے ہیں
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ:
- سخت جانچ پڑتال کے باوجود یہ ضروری ہے کہ
حقیقی طور پر خطرے میں موجود لوگوں کو تحفظ ملے - اور ہر فرد کے ساتھ انصاف کیا جائے
یہ صورتحال ایک ایسے پیچیدہ توازن کی متقاضی ہے جہاں انسانی ہمدردی اور قانونی شفافیت دونوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
نتیجہ
جرمنی میں پناہ کا نظام اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔
افغان درخواست گزاروں کا LGBTQ شناخت یا حمایت کو بطور جواز پیش کرنا ایک ایسا رجحان بن چکا ہے جس نے:
- پالیسی سازوں
- عدالتوں
- انسانی حقوق تنظیموں
- اور عام شہریوں
سب کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا ہے۔ آنے والے سالوں میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے کیونکہ یورپ میں پناہ کے قوانین پہلے سے زیادہ سخت ہو رہے ہیں۔
ڈسکلیمر (خبری نوعیت کے مضمون کے مطابق)
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر معلومات کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔
مزید تازہ ترین یا سرکاری اپ ڈیٹس کے لیے قارئین مستند نیوز ذرائع سے رجوع کریں۔