راولپنڈی میں 15 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ — پولیس کی فوری کارروائی، 2 ملزمان گرفتار

راولپنڈی میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ شہریوں میں شدید غم اور غصے کا باعث بن گیا، جہاں پندرہ سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ افسوسناک واقعہ تھانہ گوجر خان کی حدود پکا کھوہ کے علاقے میں رونما ہوا، جس کے بعد پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی درخواست پر فوری مقدمہ درج کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعے نے نہ صرف مقامی افراد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ بچوں اور کم عمر بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

Advertisement

واقعے کی تفصیل

ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد نے تھانہ گوجر خان میں درخواست جمع کروائی جس میں الزام لگایا گیا کہ ان کی 15 سالہ بیٹی کو دو افراد نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ درخواست موصول ہوتے ہی پولیس حرکت میں آئی اور واقعے کے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ تھانہ پولیس نے دونوں نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد، متاثرہ کے بیان اور دیگر تحقیقاتی نکات کی روشنی میں کیس کو ہر زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت سے بچنے کے لیے تحقیقات کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔

Advertisement

پولیس کی حکمتِ عملی اور کارروائی

ایس پی صدر انعم شیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کیس انتہائی حساس نوعیت کا ہے، اس لیے تمام شواہد کو قانونی تقاضوں کے مطابق اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ:

“ملزمان کو تمام ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ چالان کیا جائے گا، تاکہ عدالت میں کیس مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔”

ایس پی کے مطابق پولیس ہر اس قدم کو اٹھا رہی ہے جو عدالت میں ملزمان کی سزا کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ متاثرہ لڑکی اور اہل خانہ کو ہر ممکن قانونی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

معاشرہ اور والدین کے لیے لمحہ فکریہ

ایسے واقعات معاشرے کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور لمحہ فکریہ ہیں۔ کم سن لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے کیسز اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بچوں کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • والدین کو چاہیے کہ بچوں کی سرگرمیوں اور میل جول پر گہری نظر رکھیں۔
  • مقامی کمیونٹی کو بھی ایسے مشکوک افراد یا واقعات کی فوری اطلاع پولیس کو دینی چاہیے۔
  • حکومتی اداروں کو بچوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے۔

قانونی عمل اور آئندہ کے مراحل

پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد:

  • ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے
  • میڈیکل ٹیسٹ مکمل ہو چکا ہے
  • جائے وقوعہ سے شواہد محفوظ کیے جا چکے ہیں
  • متاثرہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے
  • تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے

اس کے بعد کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر چالان تیار کیا جائے گا جو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ عدالت میں مضبوط شواہد اور مکمل قانونی کارروائی کے بعد ہی ملزمان کو سزا دلوانا ممکن ہوگا۔

Also read :پاکستانی لڑکی کو شادی کے نام پر چینی شہری کو فروخت کیے جانے کا دل دہلا دینے والا انکشاف

علاقہ مکینوں کا ردِعمل

واقعہ سامنے آنے کے بعد پکا کھوہ اور اس کے گردونواح کے رہائشیوں میں خوف اور غم کی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ کئی لوگوں نے مقامی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ:

  • پولیس گشت بڑھایا جائے
  • بچوں کی حفاظت کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے
  • ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین سزائیں تجویز کی جائیں

سوشل میڈیا پر عوامی ردِعمل

خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ صارفین نے مطالبہ کیا کہ کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر نہ صرف فوری کارروائی کی جائے بلکہ ایسے جرائم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے قانون سازی بھی مزید سخت کی جائے۔

متاثرہ خاندان کی حالت

متاثرہ لڑکی کا خاندان گہرے صدمے میں ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے منتظر ہیں اور انہیں امید ہے کہ پولیس اور عدالت اس کیس میں انصاف پر مبنی فیصلہ کرے گی۔


اختتامیہ

پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے واقعات معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے واقعات روکنے کے لیے قانونی اداروں، والدین، معاشرتی تنظیموں اور حکومتی اداروں کو مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ راولپنڈی میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے صرف قانون کافی نہیں، اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ضروری ہے۔


ڈائنامک ڈسکلیمر (نیوز آرٹیکل کے لیے)

Disclaimer: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور مصدقہ ذرائع کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس اور مزید معلومات کے لیے متعلقہ سرکاری یا مستند نیوز پلیٹ فارمز سے رجوع کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top