پاکستانی لڑکی کو شادی کے نام پر چینی شہری کو فروخت کیے جانے کا دل دہلا دینے والا انکشاف

صادق آباد سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی لڑکی نے ایسا انکشاف کیا ہے جس نے سننے والوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ لڑکی کے مطابق اسے خوشحال زندگی کے لالچ میں چینی شہری سے شادی کروائی گئی، مگر شادی کے بعد معلوم ہوا کہ دراصل اسے 17 لاکھ روپے میں بیچ دیا گیا تھا۔ تین ماہ قبل ہونے والی اس شادی نے اس کی زندگی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا، اور اب وہ حاملہ بھی ہے۔ اس اذیت ناک صورتحال نے انسانی سمگلنگ، جعلی شادیاں اور شادی کے نام پر خواتین کی خرید و فروخت کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو ایک بار پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

Advertisement

شادی کا لالچ یا انسانیت کی تذلیل؟

متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ صادق آباد کی رہائشی ہے اور اسے یہ کہہ کر چینی شہری سے شادی کروائی گئی کہ اس کی زندگی بہتر ہو جائے گی، وہ خوش رہے گی، اور اسے بیرونِ ملک ایک روشن مستقبل ملے گا۔ شادی کے آغاز میں اسے یہی یقین دلایا جاتا رہا کہ یہ رشتہ اس کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوگا۔ لیکن شادی کے کچھ ہی عرصے بعد حالات نے یکدم پلٹا کھا لیا۔

’’مجھے پتا لگا کہ مجھے 17 لاکھ میں فروخت کیا گیا ہے‘‘

لڑکی کے مطابق شادی کے تین مہینے بعد اسے علم ہوا کہ اسے اس کے اہلِ خانہ یا بروکر گروہ نے 17 لاکھ روپے میں ایک چینی شخص کو فروخت کیا ہے۔ یہ انکشاف اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ اس نے بتایا کہ شادی کی حقیقت سامنے آنے کے بعد اسے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس کے تحفظ، آزادی اور بنیادی حقوق تک محدود کر دیے گئے۔

Advertisement

حاملہ ہونے کے باوجود دوا کے پیسے نہیں دیے جاتے

لڑکی نے پولیس کو ریکارڈ کروائے گئے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ تین ماہ قبل چینی شہری سے شادی کے بعد اب حاملہ ہے، لیکن اس کی حالت کے باوجود اسے طبی معاونت فراہم نہیں کی جاتی۔ “جب میں نے ادویات کے پیسے مانگے تو وہ نہیں دیتے”، لڑکی کے مطابق اسے ہر طرح سے نظرانداز کیا جاتا ہے، جس سے اس کی جسمانی اور ذہنی حالت مزید خراب ہو رہی ہے۔

پولیس کو بیان ریکارڈ: انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک بے نقاب ہونے کا امکان

متاثرہ لڑکی نے تمام صورتحال کا انکشاف کرتے ہوئے اپنا بیان پولیس کے سامنے ریکارڈ کروا دیا ہے۔ پولیس اس کیس کو انسانی سمگلنگ اور شادی کے نام پر عورتوں کی خرید و فروخت کے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ اس قسم کے کیسز پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے سامنے آتے رہے ہیں، جہاں مختلف گروہ غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو جھوٹے خواب دکھا کر غیر ملکی شہریوں سے شادی کرواتے ہیں اور بعد میں انہیں رقم کے عوض فروخت کر دیتے ہیں۔

Also read:آئی سی سی نے نئی پلیئرز رینکنگ جاری کر دی — تازہ اپ ڈیٹس اور اہم تبدیلیاں

پاکستان میں جعلی شادیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد — ایک سنگین مسئلہ

یہ کیس کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی مختلف شہروں میں ایسی وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں جہاں لڑکیوں کو غیر ملکی مردوں کے ساتھ شادی کے نام پر بیرونِ ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر فروخت کر دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر کیسز میں متاثرہ خواتین کا کہنا ہوتا ہے کہ انہیں بہتر生活، بیرون ملک سیٹ ہونے اور خاندان کی مالی مدد جیسے خواب دکھا کر دھوکہ دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردِعمل

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس افسوسناک واقعے کو خواتین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے گروہوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے، ورنہ مزید لڑکیاں ایسے ہی جال میں پھنس کر اپنی زندگی برو باد کرتی رہیں گی۔

حکومت اور اداروں کی ذمہ داری

اس واقعے نے ایک بار پھر حکومت کے سامنے ایک اہم سوال رکھ دیا ہے کہ آخر کب تک لڑکیوں کو ایسے نیٹ ورکس کا شکار بننے سے بچایا جائے گا؟ نادان اور معاشی مجبوریوں کا شکار خاندانوں کو تحفظ دینے، بروکر گروہوں کی سرکوبی، اور شادی کے نام پر انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

متاثرہ لڑکی کے لیے انصاف کی امید

اس وقت ساری توجہ پولیس کی تحقیقاتی کارروائی پر ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی نے امید ظاہر کی ہے کہ اسے انصاف ملے گا، اس کی جان اور بچے کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی، اور اس دردناک کھیل میں ملوث ہر شخص کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔


ڈائنامک ڈسکلئمر (خبری نوعیت کے مطابق):

یہ خبر دستیاب رپورٹس اور مستند ذرائع کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین تفصیلات کے لیے سرکاری اور معتبر نیوز آؤٹ لیٹس سے معلومات کی تصدیق ضرور کر لیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top