نیپا چورنگی حادثہ — 3 سالہ ابراہیم کی لاش نکالنے والا نوجوان کون تھا؟ افسوسناک واقعے کی مکمل تفصیل

کراچی میں چند روز قبل پیش آنے والا دردناک واقعہ پورے شہر کے لیے ایک کربناک المیہ بن گیا، جب گلشن اقبال کے علاقے نیپا چورنگی کے قریب ایک کھلا مین ہول ایک 3 سالہ معصوم بچے، ابراہیم، کی جان لے گیا۔ اس حادثے نے نہ صرف انتظامی غفلت کو بے نقاب کیا بلکہ ایک گمنام ہیرو کو بھی سامنے لے آیا—وہ نوجوان جس نے اپنی جان پر کھیل کر ابراہیم کی لاش نکالی۔

Advertisement

یہ واقعہ کراچی میں سیوریج کے کھلے مین ہولز کے مسئلے کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ابراہیم اپنے گھر والوں کے ساتھ شاہ فیصل کالونی سے آیا ہوا تھا اور حادثاتی طور پر مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔ جب ریسکیو ٹیموں کو اطلاع ملی تو بچے کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا گیا، مگر جس لمحے تک ریسکیو عملہ پہنچتا، ایک نوجوان پہلے ہی اس خطرناک گندگی سے بھرے اندھے کنویں میں اتر چکا تھا۔

لاش نکالنے والا نوجوان کون تھا؟

عینی شاہدین کے مطابق یہ نوجوان کوئی سرکاری اہلکار یا تربیت یافتہ ریسکیو ورکر نہیں تھا، بلکہ ایک کچرا چننے والا لڑکا تھا جو اسی علاقے کے آس پاس اپنا کام کر رہا تھا۔ جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ ایک بچہ کھلے مین ہول میں گر گیا ہے، وہ بلا خوف و خطر سیوریج لائن میں اتر گیا۔

Advertisement

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس لڑکے نے نہ صرف فوری طور پر بچے تک پہنچنے کی کوشش کی بلکہ اس نے انتہائی خطرناک اور سانس روک دینے والے ماحول میں رہتے ہوئے بچے کی لاش نکال کر ریسکیو حکام کے حوالے کی۔

یہ وہ لمحہ تھا جب علاقے کے رہائشی، ریسکیو ٹیمیں اور بچے کے اہل خانہ سب جذبات سے لبریز ہوگئے۔ اگرچہ بچہ موقع پر دم توڑ چکا تھا، لیکن اس نوجوان کی بہادری، انسانیت اور حاضر دماغی کو ہر طرف سے سراہا گیا۔

پولیس تشدد کا حیران کن انکشاف

واقعے کے بعد ایک افسوسناک پہلو بھی سامنے آیا:

اطلاعات کے مطابق، لاش نکالنے والے اسی نوجوان کو پولیس نے شک کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسے بطور مشتبہ فرد حراست میں لیا، جبکہ کچھ کے مطابق اسے محض واقعاتی سوالات کے دوران بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ انکشاف سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
جو نوجوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک معصوم بچے کی لاش نکالنے میں مدد کر رہا تھا، اسے سرکاری اداروں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانا ایک اور ریاستی نااہلی سمجھا گیا۔

واقعے کی تفصیلات — لمحہ بہ لمحہ صورتحال

حادثہ کیسے پیش آیا؟
ابراہیم اپنے والدین کے ساتھ علاقے سے گزر رہا تھا جب وہ اچانک کھلے مین ہول میں جا گرا۔ بتایا جاتا ہے کہ مین ہول کھلا ہوا تھا اور اس کے آس پاس کوئی حفاظتی نشان بھی نہیں تھا۔

ریسکیو آپریشن کی صورتحال
ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں مگر اندھیرے اور گہرے مین ہول میں فوری طور پر رسائی مشکل تھی۔ ایسے میں نوجوان نے پہلے ہی رسک لے کر مین ہول میں چھلانگ لگا دی۔

لاش نکالنے کا وقت
کچرا چننے والے نوجوان نے سخت بدبو، کم آکسیجن اور گندگی کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور کچھ کوششوں کے بعد بچے کی لاش نکال کر اوپر لایا۔

عوامی ردِعمل
پوری برادری نے اس نوجوان کو حقیقی ہیرو قرار دیا، جبکہ انتظامیہ پر شدید تنقید کی گئی کہ ایسے کھلے مین ہول کیوں موجود ہیں جو کسی بھی لمحے انسانی جان لے سکتے ہیں۔

Also read:کم عمر موٹر سائیکل چلانے والے طلباء بارے نیا فیصلہ — والدین ہوشیار ہو جائیں

انتظامی غفلت — ذمہ داری کس کی؟

کراچی میں مین ہولز کا کھلا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سیوریج لائنوں کے ڈھکن غائب ہیں، اور شہری روزانہ اس خطرے کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انتظامیہ کی غفلت کس طرح ایک معصوم بچے کی جان لے سکتی ہے، اور کس طرح عام شہری اپنی مدد آپ کے تحت زندگی بچانے یا کم از کم لاشیں نکالنے پر مجبور ہیں۔

عوام نے بھی یہ سوال اٹھایا کہ اگر ریسکیو ٹیموں کے پاس مناسب تربیت یا آلات موجود تھے تو انہیں ایک عام نوجوان کی ضرورت کیوں پڑی؟ یہ سوالات انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہیں۔

سوشل میڈیا پر نوجوان کو ہیرو قرار دیا گیا

ریسکیو کے بعد نوجوان کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ہزاروں صارفین نے اس کی بہادری کو سلام پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت اسے سرکاری سطح پر اعزاز دے۔
کچھ نے یہ بھی کہا کہ اگر یہی نوجوان کسی بڑے ملک میں ہوتا تو آج اسے انسانیت کا ایوارڈ مل رہا ہوتا۔

کیا شہر میں ایسے واقعات رک پائیں گے؟

یہ پہلا واقعہ نہیں — کراچی میں مین ہولز میں گر کر درجنوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
اہم سوال یہ ہے: کیا انتظامیہ اس بار جاگے گی؟ یا چند دن بعد یہ سانحہ بھی دیگر خبروں کی طرح ماند پڑ جائے گا؟

عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • مین ہولز کے فوری ڈھکن لگائے جائیں
  • متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے
  • بہادر نوجوان کو سرکاری طور پر سراہا جائے
  • شہر میں سیوریج سسٹم کی فوری مرمت کی جائے

Disclaimer (خبر سے متعلق خودکار ڈائنامک ڈسکلیمر):

ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی معلومات کی بنیاد پر تحریر کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیشہ سرکاری یا مستند نیوز آؤٹ لیٹس سے رجوع کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top