پنجاب میں کم عمر ڈرائیونگ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے، خصوصاً اسکول اور کالج جانے والے طلبہ کی جانب سے بغیر لائسنس کے موٹر سائیکل چلانا آئے روز حادثات کا سبب بنتا ہے۔ اسی بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر پنجاب ٹریفک پولیس نے کم عمر ڈرائیونگ کے حوالے سے ایک اہم اور واضح فیصلہ جاری کیا ہے، جس کا مقصد والدین اور طلبہ دونوں کو ذمے داری کا احساس دلانا ہے جبکہ قانون پر سختی سے عمل درآمد بھی یقینی بنانا ہے۔
یہ نیا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ والدین کیلئے بھی قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر اسکول و کالج کی سطح پر روزانہ بڑی تعداد میں ایسے طالب علم نظر آتے ہیں جو کم عمری میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے سڑکوں پر خطرہ بنتے ہیں۔
پنجاب ٹریفک پولیس کا اہم اعلان
تفصیلات کے مطابق پنجاب ٹریفک پولیس نے واضح کر دیا ہے کہ کم عمر ڈرائیونگ کے حوالے سے پالیسی میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے فیصلے کے مطابق:
- کم عمر اسکول و کالج جانے والے طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔
- صرف چالان کیا جائے گا، فوجداری کاروائی نہیں ہوگی۔
- ٹریفک پولیس کے مطابق اگر کوئی طالب علم کم عمر ہو کر موٹر سائیکل چلاتا پایا جاتا ہے تو اسے چالان کیا جائے گا مگر کیس رجسٹر نہیں ہوگا۔
یہ فیصلہ والدین کو قانونی مشکل سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ اکثر والدین اپنے بچوں کو کم عمری میں موٹر سائیکل فراہم کر دیتے ہیں جس سے قانونی کارروائی والدین پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
فیصلہ کیوں کیا گیا؟ پس منظر اور وجوہات
پنجاب بھر میں ٹریفک پولیس کی جانب سے کیے گئے سروے اور رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ:
- کم عمر ڈرائیونگ کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
- اسکول و کالج جانے والے بچوں کی بڑی تعداد بغیر لائسنس اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہے۔
- کم عمر ڈرائیونگ کی وجہ سے حادثات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
- والدین کی غفلت بھی ایک بڑی وجہ ہے جو بچوں کو لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل دے دیتے ہیں۔
نئے فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ سخت کارروائی نہیں بلکہ اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ بچوں میں ٹریفک قوانین کے احترام اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔
والدین کیلئے خصوصی وارننگ — ہوشیار رہیں
ٹریفک پولیس کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ:
- والدین بچوں کو کم عمری میں موٹر سائیکل دینے سے گریز کریں۔
- اگر حادثہ ہو جائے تو ذمہ داری والدین پر بھی آسکتی ہے۔
- چالان کے ساتھ ساتھ ٹریفک پولیس والدین کو سخت تنبیہ بھی کرے گی۔
- بچوں کو ٹریفک قوانین کی تربیت دینا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اس کے ساتھ پولیس نے یہ بھی کہا کہ کم عمر ڈرائیونگ روکنے کیلئے آگاہی مہم بھی شروع کی جارہی ہے جس میں اسکولوں اور کالجوں کا تعاون شامل ہوگا۔
Also read:انڈر 19 ایشیا کپ کے لیے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان — مکمل تفصیلات اور پس منظر
طلبہ کیلئے ہدایات
نیا فیصلہ نوجوان طلبہ کیلئے بھی خصوصی پیغام رکھتا ہے:
- بغیر لائسنس گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا قانوناً جرم ہے۔
- کم عمر میں ڈرائیونگ نہ صرف اپنی جان کیلئے خطرہ ہے بلکہ دوسروں کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔
- ٹریفک پولیس کی جانب سے چالان ہونے کی صورت میں والدین کو بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس لیے طلبہ کو چاہیے کہ 18 سال کی عمر اور باقاعدہ لائسنس حاصل کرنے سے پہلے ڈرائیونگ ہرگز نہ کریں۔
اصلاحی اقدام یا نرمی؟ عوامی ردعمل
اس فیصلے پر شہریوں کے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ لوگ اسے اصلاحی قدم کہہ رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ سخت کارروائی کے بغیر کم عمر ڈرائیونگ ختم نہیں ہوسکتی۔
حکومتی حکام کے مطابق یہ پالیسی مستقبل میں نتائج کے مطابق مزید تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ اگر بچے اور والدین اس نرمی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں تو دوبارہ سخت کارروائی کا امکان موجود ہے۔
نتیجہ
پنجاب ٹریفک پولیس کا یہ فیصلہ والدین اور طلبہ دونوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلانے کیلئے اہم قدم ہے۔ چالان کا مقصد سزا نہیں بلکہ اصلاح اور آگاہی ہے۔ والدین اگر تعاون کریں اور بچوں کو کم عمری میں ڈرائیونگ سے روکیں تو سڑکوں پر حادثات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔
ڈائنامک ڈسکلیمر (خبری نوعیت)
Disclaimer: اس خبر میں بیان کی گئی معلومات معتبر رپورٹس اور دستیاب ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی تازہ ترین اپ ڈیٹ یا سرکاری اعلان کی تصدیق متعلقہ سرکاری اداروں یا مستند نیوز آؤٹ لیٹس سے ضرور کریں۔