فی تولہ سونے کی قیمت 6 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے؟ ماہرین کی وارننگ، 2026 کے لیے بڑی پیش گوئیاں

دنیا بھر کے بڑے مالیاتی ادارے، سرمایہ کاری بینکس اور کموڈیٹی ماہرین سال 2026 کے دوران سونے کی قیمتوں کے مجموعی طور پر مضبوط رہنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا اور بعض غیر رسمی مالیاتی پلیٹ فارمز پر یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ سونے کی قیمتوں میں جلد کمی یا بڑی اصلاح آ سکتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

Advertisement

ماہرین کے مطابق عالمی معیشت اس وقت غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے۔ کئی بڑی معیشتوں میں مہنگائی مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی، جبکہ سود کی شرحوں، ڈالر کی قدر، جغرافیائی کشیدگی اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں نے سونے کو ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری بنا دیا ہے۔ انہی عوامل کی بنیاد پر بعض تجزیہ کار یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر حالات موجودہ سمت میں آگے بڑھتے رہے تو پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت آئندہ برسوں میں 6 لاکھ روپے تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

عالمی معیشت اور سونے کا تعلق

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا ہمیشہ سے غیر یقینی معاشی حالات میں سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح رہا ہے۔ جب عالمی سطح پر کساد بازاری، جنگی خطرات یا مالیاتی نظام میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹس اور دیگر رسکی اثاثوں سے نکل کر سونے کی طرف رخ کرتے ہیں۔
سال 2026 کے لیے بھی یہی رجحان دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں معاشی سست روی کے آثار موجود ہیں، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتیں قرضوں اور زرمبادلہ کے دباؤ کا شکار ہیں۔

Advertisement

سود کی شرحیں اور ڈالر کا کردار

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت پر سب سے زیادہ اثر سود کی شرحوں اور امریکی ڈالر کی قدر کا پڑتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر سود کی شرحیں کم ہوتی ہیں تو سونا مزید پرکشش ہو جاتا ہے، کیونکہ سونے پر کسی قسم کا سود نہیں ملتا، اس لیے کم شرح سود کے ماحول میں اس کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔
اسی طرح اگر امریکی ڈالر کمزور ہوتا ہے تو سونے کی قیمت عالمی منڈی میں اوپر جاتی ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

مرکزی بینکوں کی خریداری

حالیہ برسوں میں دنیا کے کئی مرکزی بینک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے مرکزی بینک، سونے کے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان 2026 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
مرکزی بینک سونے کو اپنی کرنسی کے تحفظ اور مالیاتی استحکام کے لیے ایک محفوظ ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جب بڑے پیمانے پر مرکزی بینک سونا خریدتے ہیں تو عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت پر دباؤ بڑھتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت کیوں تیزی سے بڑھ سکتی ہے؟

پاکستان میں سونے کی قیمت صرف عالمی نرخوں سے ہی نہیں بلکہ روپے کی قدر، درآمدی پالیسیوں اور معاشی حالات سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر روپے کی قدر میں مزید کمی آتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں معمولی اضافہ بھی مقامی سطح پر قیمتوں کو غیر معمولی حد تک بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر سونا مضبوط رہا اور پاکستان میں مہنگائی و کرنسی دباؤ برقرار رہا تو فی تولہ سونے کا 6 لاکھ روپے تک جانا ناممکن نہیں۔

Also read:ایزی پیسہ کی اپنے صارفین کیلئے دھماکے دار آفر

سوشل میڈیا دعوے اور حقیقت

سوشل میڈیا پر بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سونے کی قیمتوں میں جلد بڑی کمی آنے والی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ غیر مستند معلومات پر فیصلہ کرنا سرمایہ کاروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وقتی اتار چڑھاؤ کے باوجود طویل مدت میں سونے کے بنیادی عوامل مضبوط ہیں، اور کسی بھی بڑی کمی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر اگر عالمی حالات مزید غیر یقینی ہو جائیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے ماہرین کا مشورہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو جذبات کے بجائے حقائق اور طویل المدتی رجحانات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ فوری منافع کی امید میں غیر مصدقہ خبروں پر عمل کرنا نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
سونے کو مکمل سرمایہ کاری کے بجائے ایک متوازن پورٹ فولیو کا حصہ سمجھنا زیادہ محفوظ حکمت عملی ہے، تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔

نتیجہ

مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سال 2026 میں سونے کی قیمتیں مضبوط رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ عالمی معیشت کی غیر یقینی صورتحال، سود کی شرحوں میں ممکنہ تبدیلیاں، ڈالر کی قدر اور مرکزی بینکوں کی خریداری جیسے عوامل سونے کو مزید قیمتی بنا سکتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 6 لاکھ روپے تک بھی پہنچ سکتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ہمیشہ عالمی اور مقامی حالات پر منحصر ہوگا۔


ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع پر مبنی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں وقت کے ساتھ تبدیلی ممکن ہے، اس لیے قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ سرمایہ کاری یا مالی فیصلے کرنے سے پہلے تازہ معلومات کے لیے سرکاری اور مستند مالیاتی اداروں یا معروف نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top