قومی کرکٹ ٹیم کے معروف اوپنر فخر زمان ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، تاہم اس مرتبہ وجہ ان کی شاندار بیٹنگ نہیں بلکہ آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹرائی نیشن سیریز کے فائنل میں فخر زمان پر آئی سی سی قوانین کی لیول ون خلاف ورزی کا الزام ثابت ہونے کے بعد ان پر جرمانہ بھی عائد کردیا گیا ہے اور ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی دے دیا گیا ہے۔
واقعہ کیا پیش آیا؟
ٹرائی نیشن سیریز کے انتہائی اہم فائنل میچ میں فخر زمان کا ایک ایسا ردعمل سامنے آیا جسے آئی سی سی میچ ریفری نے ضابطہ اخلاق کے خلاف قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق فخر زمان نے امپائر کے فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جو آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے لیول ون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ آئی سی سی کے مطابق ایسی حرکات کھیل کی روح کے منافی ہیں اور بین الاقوامی میچوں میں اس طرح کے رویے کی کوئی گنجائش نہیں۔
آئی سی سی کی کارروائی
آئی سی سی نے معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد فخر زمان پر میچ فیس کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے انہیں ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی دیا۔ ڈیمیرٹ پوائنٹس وہ سزا ہے جو کھلاڑی کی ڈسپلنری ہسٹری میں شامل رہتی ہے، اور آئندہ مزید خلاف ورزیوں کی صورت میں بڑی پابندیوں یا میچ پابندی کا باعث بن سکتی ہے۔
لیول ون کی خلاف ورزیوں میں عام طور پر جرمانے کی حد میچ فیس کا 50 فیصد تک ہوسکتی ہے، جبکہ کھلاڑی کو ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی دیا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے یہ خلاف ورزی انتہائی کم سطح کی تھی، اس لیے فخر زمان کو بڑی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
فخر زمان کا ردعمل
اگرچہ فخر زمان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی خلاف ورزی اکثر جذباتی لمحات میں پیش آتی ہے۔ کھلاڑیوں پر دباؤ اور میچ کی حساسیت بعض اوقات غیر ارادی ردعمل کا باعث بنتی ہے۔ فخر زمان اپنی پرسکون طبیعت کے باعث پہچانے جاتے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستانی ٹیم پر اس کا اثر
فخر زمان پاکستان ٹیم کے اہم اوپننگ بیٹر ہیں اور ان کی کارکردگی اکثر ٹیم کی مجموعی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم ڈسپلن کی خلاف ورزی ٹیم کے ماحول اور ساکھ پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کو اس وقت بڑے ٹورنامنٹس کی تیاری کرنی ہے، لہٰذا ایسے واقعات سے بچنا ضروری ہے تاکہ ٹیم مثبت سمت میں آگے بڑھ سکے۔
Also read:ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان کون ہوگا؟ — مکمل تفصیل
آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کیا ہے؟
آئی سی سی کا کوڈ آف کنڈکٹ بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں میں کھلاڑیوں کے رویے، اسپورٹس مین اسپرٹ، امپائرز کی عزت، شائقین کے احترام اور کھیل کی ساکھ کو قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
لیول ون کی خلاف ورزیوں میں شامل ہیں:
- امپائر کے فیصلے پر غیر ضروری احتجاج
- خراب رویہ یا غیر مناسب زبان کا استعمال
- میدان میں ناپسندیدگی کا اظہار
- کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا غیر اہم ردعمل
فخر زمان کی خلاف ورزی اسی فہرست میں شامل عمل کے تحت درج کی گئی۔
کرکٹ برادری کا ردعمل
سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے فخر زمان کے اتنے بڑے کیریئر میں معمولی نوعیت کی غلطی قرار دیا، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ سینئر کھلاڑی ہونے کی حیثیت سے انہیں مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ فائنل کے تناؤ بھرے ماحول کا نتیجہ تھا۔ ایسے مواقع پر کھلاڑیوں کو اپنی جذباتی کیفیت پر قابو رکھ کر کھیل کی ساکھ کا خیال رکھنا چاہیے۔
آگے کا راستہ
فخر زمان کے لیے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں جذبات کے اظہار اور رویے کو ہمیشہ ضابطہ اخلاق کے تحت رکھنا پڑتا ہے۔ اگرچہ یہ واقعہ ان کے ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے، مگر اس کا اثر ان کی کرکٹ یا مستقبل کے مواقع پر بہت زیادہ پڑنے کا امکان نہیں، بشرطیکہ وہ آئندہ ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کریں۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق اس واقعے سے پاکستان ٹیم اور دیگر کھلاڑیوں کو بھی سبق لینا چاہیے کہ امپائر کے فیصلوں کا احترام اور کھیل کی روح برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔
ڈائنامک ڈسکلیمر (خبر کے موضوع کے مطابق)
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معلومات پر مبنی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ مستند اور سرکاری ذرائع سے تازہ ترین اپڈیٹس کی تصدیق ضرور کریں۔