عروب جتوئی کا اپنے شوہر کے بارے میں اہم انکشاف

لاہور: سیشن کورٹ لاہور نے جوئے کی ایپس کی غیر قانونی تشہیر کے کیس میں ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 22 دسمبر تک توسیع کردی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے درخواست ضمانت پر سماعت کی، جس میں عروب جتوئی نے عدالت سے عبوری ضمانت کی میعاد میں توسیع کی درخواست کی تھی۔

Advertisement

یہ کیس اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ڈکی بھائی کے خلاف غیر قانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کا الزام سامنے آیا۔ عروب جتوئی، جو کہ ڈکی بھائی کی اہلیہ ہیں، نے عدالت میں بیان دیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات میں ان کا کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ انہوں نے عدالت سے مؤدبانہ درخواست کی کہ انہیں عبوری ضمانت پر رہا کیا جائے تاکہ وہ قانونی کارروائی کے دوران اپنے حقوق اور خاندان کے معاملات کو سنبھال سکیں۔

عدالت نے درخواست پر غور کرتے ہوئے عروب جتوئی کی عبوری ضمانت کی مدت میں توسیع کی منظوری دے دی اور نئی تاریخ 22 دسمبر مقرر کی۔ اس دوران عروب جتوئی کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کے بارے میں عدالت میں جو بھی اہم انکشافات کرنا چاہیں، کر سکیں۔ عروب جتوئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی مؤکلہ نے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے اور وہ صرف اپنے خاندان کی حفاظت اور ذاتی زندگی کو جاری رکھنے کے لیے قانونی مدد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

Advertisement

ذرائع کے مطابق، عروب جتوئی نے عدالت میں بیان دیا کہ ان کے شوہر، جنہیں ڈکی بھائی کے نام سے جانا جاتا ہے، مختلف جوئے کی ایپس کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کر رہے تھے اور اس کے سلسلے میں متعدد افراد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کی سرگرمیوں کا انہیں علم نہیں تھا اور جب انہیں پتا چلا تو وہ خود قانونی کارروائی کی راہ دیکھ رہی تھیں۔

یہ کیس اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان میں جوئے اور غیر قانونی ایپس کی تشہیر کے خلاف قوانین سخت ہیں اور عدلیہ کی نظر میں اس قسم کی سرگرمیاں نہ صرف معاشرتی نقصان کا سبب بنتی ہیں بلکہ عوامی سطح پر مالی بدعنوانی کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت کی توسیع کے بعد یہ کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور عدالت نے واضح کیا ہے کہ قانونی کارروائی کے دوران تمام شواہد اور دستاویزات پیش کی جائیں گی تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

عروب جتوئی کے بیان سے یہ واضح ہوا کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں جو بھی انکشافات کریں گی، وہ مکمل طور پر شفاف اور درست معلومات پر مبنی ہوں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عبوری ضمانت کے دوران یہ موقع اہم ہوتا ہے کہ ملزم یا ملزمہ اپنی صفائی پیش کریں اور اگر کوئی غلط فہمی یا الزام کی بنیاد کمزور ہو تو اسے عدالت کے سامنے بیان کیا جائے۔

Also read:بھائی اور والد نے بیٹی کے دوست کو قتل کردیا — مہاراشٹر میں دل دہلا دینے والا واقعہ

عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں توسیع کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا اور خبری ذرائع پر بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا۔ صارفین کی اکثریت نے عدالت کے فیصلے کو مناسب قرار دیا اور کہا کہ قانونی کارروائی کے دوران کسی کو بلاوجہ گرفتار یا پابندی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری جانب کچھ حلقوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عروب جتوئی واقعی اپنے شوہر کی سرگرمیوں سے بے خبر تھیں یا پھر کسی حد تک ملوث تھیں۔ یہ سوالات عدالتی کارروائی کے دوران تفصیلی تحقیقات میں حل ہوں گے۔

اس کیس کے دوران عروب جتوئی کے وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ ان کی مؤکلہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ عدالت کے تعاون میں کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عروب جتوئی کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ قانونی پیچیدگیوں کے باوجود اپنے خاندان اور ذاتی زندگی کی حفاظت کریں۔

عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت میں توسیع کا یہ فیصلہ نہ صرف عروب جتوئی کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے بلکہ قانونی نظام کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ عدلیہ شواہد کی بنیاد پر عادلانہ فیصلے کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ یہ کیس مستقبل میں جوئے کی ایپس کے خلاف قانونی کارروائیوں کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے اور یہ دکھاتا ہے کہ عدلیہ ایسے معاملات میں انصاف فراہم کرنے میں سنجیدہ ہے۔

اس کیس کی سماعت 22 دسمبر کو دوبارہ ہوگی، جس میں عروب جتوئی سے مزید تفصیلی بیانات اور شواہد طلب کیے جا سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اس کیس کے نتیجے میں پاکستان میں جوئے کی ایپس اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف عدالتی کارروائیوں میں اضافہ ممکن ہے اور یہ معاشرتی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام دے گا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


ڈسکلایمر:
یہ خبری مضمون دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ تازہ ترین معلومات کے لیے متعلقہ آفیشل نیوز ذرائع سے بھی تصدیق کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top