جدید ڈرون سے ایف سولہ گرا کر ترکیہ نے تاریخ رقم کردی — دفاعی میدان میں نئی مثال قائم

ترکیہ نے دفاعی ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک شاندار سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ انقرہ سے موصول اطلاعات کے مطابق ترکیہ نے اپنے جدید ترین بغیر پائلٹ لڑاکا ڈرون “بیراکتر کزلیلما” کے ذریعے امریکی ساختہ ایف-16 فائٹر جیٹ کو بےyond visual range (BVR) یعنی بصری حدود سے باہر میزائل کے ذریعے ہدف بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس تجربے نے نہ صرف ترکیہ کی دفاعی صلاحیتوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی خود انحصاری کو ثابت کیا ہے بلکہ عالمی عسکری قوتوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

Advertisement

ترکیہ کا تاریخی تجربہ — دفاعی صنعت میں بڑا بریک تھرو

ترکیہ کی دفاعی صنعت دنیا بھر میں پہلے ہی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن جدید ڈرون “بیراکتر کزلیلما” کا ایف سولہ کو ہدف بنانا ایک ایسی کامیابی ہے جس نے نئے عالمی دفاعی اصولوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یہ تجربہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب ڈرون ٹیکنالوجی روایتی جنگی طیاروں کے مقابلے میں ایک عملی اور مؤثر متبادل بن چکی ہے۔

ترک کمپنی بائیکر (Baykar) کے مطابق کزلیلما نے بغیر کسی انسانی مداخلت کے ایک ایسے میزائل کا استعمال کیا جو بصری حدود سے باہر بھی انتہائی درستگی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صلاحیت دنیا کی چند ہی عسکری طاقتوں کے پاس موجود ہے۔

Advertisement

بیراکتر کزلیلما — خصوصیات اور تکنیکی برتری

بیراکتر کزلیلما ترکیہ کا پہلا اسٹیلتھ جنگی ڈرون ہے جو ایئر ٹو ایئر کامبیٹ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے باعث ریڈار سے تقریباً پوشیدہ رہنے کی صلاحیت
  • آٹو میٹک ٹارگٹنگ سسٹم
  • بصری حدود سے باہر مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال
  • ہائی سپیڈ اور طویل رینج پرواز
  • ثانوی پائلٹ یا گرانڈ کنٹرول کے بغیر خود کار پرواز

ان خصوصیات کی وجہ سے کزلیلما کو دنیا بھر میں جدید ترین ڈرون سسٹمز کی صف میں شامل کر دیا گیا ہے۔

ترکیہ کی دفاعی خود انحصاری — ایک نیا دور

ماہرین کے مطابق ترکیہ کی یہ کامیابی دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کے نئے دور کا آغاز ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ترکیہ نے ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل سسٹمز، بحری جہازوں اور بکتر بند گاڑیوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ بیراکتر ٹی بی-2 اور اکنجی جیسے ڈرون پہلے ہی دنیا بھر میں اپنی صلاحیت منوا چکے ہیں، اور اب کزلیلما کا تجربہ ترکیہ کو اس دوڑ میں مزید آگے لے گیا ہے۔

دنیا کی توجہ ترکیہ کی جانب — نئی جیو اسٹریٹجک حقیقت

ترکیہ کی اس کامیابی نے عالمی طاقتوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بغیر پائلٹ ڈرونز روایتی لڑاکا طیاروں کو باآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں تو جنگی حکمتِ عملیوں میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔

امریکی ایف سولہ دنیا کے بہترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے، اور اس کو بغیر پائلٹ ڈرون کے ذریعے تقریباً 30 سے 50 کلومیٹر دور سے نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید جنگ میں ڈرونز کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔

فوجی ماہرین کی رائے — ٹیکنالوجی کا نیا مستقبل

بین الاقوامی دفاعی ماہرین کے مطابق ترکیہ کا یہ تجربہ مستقبل کی جنگی حکمتِ عملیوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔ اب وہ ممالک جو اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کے باوجود طاقتور ٹیکنالوجی چاہتے ہیں، وہ ڈرون ٹیکنالوجی کی طرف زیادہ مائل ہوں گے۔

Also read :راولپنڈی: لڑکی کے بال کاٹنے کے واقعے میں مزید 3 ملزمان گرفتار — متاثرہ خاتون کے بیان کے بعد اہم پیشرفت

کئی ماہرین نے اسے “Game Changer Moment” قرار دیا ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس کامیابی کے بعد ترکیہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط دفاعی برآمد کنندہ کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔

ترکیہ کی اس کامیابی کے ممکنہ اثرات

  • علاقے میں طاقت کا نیا توازن
  • نیٹو ممالک کے اندر تکنیکی مقابلہ
  • عالمی اسلحہ مارکیٹ میں ڈرونز کی بڑھتی ہوئی طلب
  • دفاعی اتحادوں میں نئے فیصلے اور ترجیحات

عالمی دفاعی صنعت میں انقلاب

بیراکتر کزلیلما کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا ڈرونز کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر ڈرون طیارے اس حد تک خود مختار اور مؤثر ہو چکے ہیں کہ وہ ایف سولہ جیسی مشین کو گرا سکتے ہیں، تو مستقبل میں انسانی پائلٹ کا کردار کم ہوتا جائے گا۔

ترکیہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی صرف بڑی معاشی طاقتوں کی جاگیر نہیں — عزم، تحقیق اور وژن کے ذریعے کوئی بھی ملک دفاعی میدان میں تاریخ رقم کر سکتا ہے۔


ڈائنامک نیوز ڈس کلیمر (اردو میں)

Disclaimer: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس اور تصدیق شدہ معلومات کے لیے سرکاری اور مستند نیوز پلیٹ فارمز سے رجوع کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top