ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں اضافہ — اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

پاکستان میں ایل پی جی (لیکوئیفائیڈ پیٹرولیم گیس) استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک اور مشکل خبر سامنے آگئی ہے، کیونکہ اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں باضابطہ اضافہ کر دیا ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق گھریلو سلنڈر سے لے کر کمرشل سلنڈر تک تمام قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔

Advertisement

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب موسمِ سرما اپنی شدت اختیار کر رہا ہے اور شہری ایل پی جی پر زیادہ حد تک انحصار کرتے ہیں، خصوصاً وہ علاقے جہاں گیس کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ صارفین کے مطابق یہ اضافہ گھریلو بجٹ پر بڑا بوجھ ثابت ہوگا، جبکہ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی کی شدید لہر سے پریشان ہے۔

قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟

اوگرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں مسلسل اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ اگرچہ نوٹیفکیشن میں مخصوص اعدادوشمار کی تفصیل محدود ہے، لیکن عام طور پر جب اوگرا اس نوعیت کا اعلان کرتا ہے تو اس میں اس بات کا ذکر شامل ہوتا ہے کہ نئی قیمتیں گزشتہ ماہ کی قیمتوں کے مقابلے میں کتنے فیصد بڑھائی گئی ہیں۔

Advertisement

اس اضافے کا براہِ راست اثر گھریلو 11.8 کلوگرام کے سلنڈر پر پڑے گا، جبکہ کمرشل سلنڈر کی قیمت بھی نمایاں حد تک بڑھ گئی ہے۔ شہری علاقوں میں، خصوصاً بڑے شہروں میں جہاں ایل پی جی کا استعمال نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، دکاندار نئی قیمتوں پر عملدرآمد شروع کر چکے ہیں

اضافے کی بنیادی وجوہات

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے کئی اہم عوامل سامنے آئے ہیں:

  1. بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا:
    عالمی سطح پر ایل پی جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔
  2. روپے کی قدر میں کمی:
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل دباؤ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے درآمدی ایل پی جی مزید مہنگی پڑ رہی ہے۔
  3. مقامی پیداوار میں کمی:
    بعض رپورٹس کے مطابق مقامی پیداوار میں کمی بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
  4. موسمی طلب میں اضافہ:
    سردیوں میں ایل پی جی کا استعمال کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں طلب بڑھنے سے قیمتوں میں اضافہ ہونا معمول کی بات ہے۔

صارفین پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ

گیس بحران کے باعث ملک کے کئی علاقوں میں پہلے ہی سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ایسے میں شہری ایل پی جی کو بطور متبادل استعمال کرتے ہیں۔ لیکن حالیہ اضافے نے گھریلو صارفین پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔

مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی کا خدشہ

ماضی میں قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد ذخیرہ اندوزی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ اس بار کوئی باضابطہ شکایت سامنے نہیں آئی، لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمت بڑھنے کے بعد مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے کا بھی امکان ہوتا ہے

Also read:سعودی عرب میں 13 پاکستانی مویشی چوری کے الزام میں گرفتار — مکمل تفصیلات، پس منظر اور صورتحال

کنٹرول اور نگرانی کا کردار

حکومت اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دکاندار نئی قیمتوں پر ناجائز منافع خوری نہ کریں۔ اوگرا کا موقف رہا ہے کہ وہ مارکیٹ کی نگرانی کے لیے فعال اقدام کر رہا ہے، لیکن صارفین کے مطابق کئی مقامی علاقوں میں قیمتیں سرکاری نرخ نامے سے کہیں زیادہ وصول کی جاتی ہیں۔

ماہرین کی رائے

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل مدت کے لیے ایل پی جی کے متبادل سامنے لانا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پیداوار بڑھانا، امپورٹ پالیسی کو شفاف بنانا اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو ایل پی جی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ البتہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ممکنہ پالیسی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

اختتامیہ

ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کے لیے مشکلات میں ایک اور اضافہ کر دیا ہے۔ گھریلو صارفین، کاروباری طبقہ اور دیہی آبادی سب ہی اس تبدیلی سے متاثر ہوں گے۔ ایسے حالات میں ضرورت ہے کہ حکومت قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مؤثر پالیسی بنائے، تاکہ عوام کو مزید بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


ڈائنامک ڈسکلیمر (نیوز کیٹیگری کے مطابق):

ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور قابلِ اعتماد ذرائع کی معلومات پر مبنی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین تفصیلات اور اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری نیوز ذرائع سے بھی رجوع کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top